Search This Blog

Friday, January 20, 2017

صحافت کے میدان تبدیلیوں سے کیسے نمٹا جائے ؟





صحافت کے میدان تبدیلیوں سے کیسے نمٹا جائے؟


تزئین حسن





شیر شاہ سوری نے کلکتہ سے پشاور تک ١٧٠٠ کلومیٹر طویل جرنیلی سڑک بنوائی تو اسکے ساتھ ساتھ مناسب فاصلوں پر سرائے کا نیٹورک بھی اسکے پلان کا حصہ تھا اور یہی سرائے خبر کی ترسیل کا مرکز ہونے کے علاوہ سرکاری انٹیلجنس کے مراکز بھی ہوا کرتے تھے. آج یہی سرکاری انٹیلیجنس سوشل میڈیا پر موجود پلیٹ فارم سے معلومات اکٹھا کر رہی ہے جسے ایڈورڈ سنوڈن   نے بےنقاب کیا اور 
جولین اسا نج نے اسی انٹیلی جنس معلومات کو لیک کر کے مروجہ صحافت کا منظر نامہ بدل کر رکھ دیا ہے. 

دنیا کی تاریخ میں ہمیشہ سے سماج کو معلومات فراہم کرنے کرنے کا کوئی نہ کوئی نظام رہا ہے جسے فی الوقت ہم میڈیا یا صحافت کا نام دیتے ہیں. میڈیا دراصل ذہنوں کو تبدیل کرنے کا ذریعہ رہا ہے جس سے لوگوں کی زندگی میں غیر محسوس طریقے سے بےپناہ تبدیلیاں آتی ہیں. اس میں تفریحی میڈیا کا بھی کردار ہے اور سیاسی اور سماجی خبروں کا بھی. انسانی زندگی جیسے جیسے ارتقا کے مراحل طے کر رہے ہے ٹیکنولوجی کا عمل دخل بڑھتا جا رہا ہے. ہر نئی آنے والی ٹیکنولوجی سے میڈیا کے میدان میں بھی تبدیلیاں آتی ہیں.


قدیم یونان میں بازار یا منڈی خبر فراہم کرنے کا ذریعہ ہوتی تھی جہاں شہر اور شہر سے باہر کے لوگ اپنی مختلف ضروریا ت سے جمع ہوتے تھے. گلیوں میں پھرنے والے گویئے بھی دیس دیس کی کہانیاں گا کر سنایا کرتے اور عوام کو تفریح کے ساتھ معلومات فراہم کرتے. اس سے بہت قبل قدیم شاہ راہ ریشم کے قصّہ خوانی بازار کی وجہ شہرت بھی یہی بتائی جاتی ہے. رومی اپنی سیاسی اور سماجی خبریں ایک روزنامچے میں درج کر کہ شہر کے قلب میں واقع میدان (جسے وہ فورم کہاکرتے) میں چسپاں کر دیا کرتے تھے جو ایک طرح کی منڈی بھی ہوتی اور کچہری بھی یعنی لوگوں کے روزانہ میل ملاپ کی جگہ اور شاید یہ مروجہ اخبار کی سب سے قدیم شکل تھی. قرون وسطیٰ کے یورپ کے تاریک ادوار میں جب چرچ کا تسلط اور جمہوری روایا ت کے بجائے تشدد کے رحجانات میں اضافہ ہوا تو حکومت کے زیر سایہ خبروں کی ترسیل کا کوئی باقائدہ انتظام نظر نہیں آتا اور اس سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ خبر کی فراہمی یا صحافت کا جمہوری روایات سے گہرا تعلق ہے.


اسلام کی ابتداء میں کوئی خاص خبر لوگوں تک پہنچانے کے لئے اذان کے ذریعہ انہیں جمع کیا جاتا اور مساجد سیاسی اور سماجی خبروں کے تبادلے کا ذریعہ ہوتیں. سیرت رسول کے ایک واقعہ سے ہمیں مسجد نبوی میں حبشیوں کے کھیل تماشے کا ذکر ملتا ہے جسے آنحضرت صلّ نے حضرت عائشہ رض کو اپنے کندھے کے پیچھے سے دکھایا.


مزے کی بات یہ کے بازار بھی مساجد کے گرد تعمیر ہوتے جو گھما گہمی اور خبر کے تبادلے کا محور بھی ہوتے اور دین اور دنیا کے امتزاج کا عملی مظاہرہ بھی. مساجد کے منبر اور جمعہ کے خطبے کو عسکری بھرتی کے لئے بھی استعمال کیا جاتا اور عوام سے مشورے کے لئے بھی اور حکمرانوں کے احتساب کے لئے بھی. ایسے ہی ایک خطبے کے دوران ایک بوڑھی عورت نے حضرت عمر رض کو مہر کے مسئلے پر ٹوکا اور خلیفہ وقت نے اسکی رائے کو صحیح مان کر اپنی رائے سے رجوع کیا. یعنی میڈیا اور احتساب کی جمہوری روا یت میں تعلق اس وقت بھی پایا جاتا تھا.


بعد اذان بنو امیہ کے زمانے میں مسجد اور منبر کو باقاعدہ سیاسی مقا صد اور سیاسی دشمنوں پر سب و شتم کے لئے استمعال کیا گیا. قرون وسطیٰ میں سرکاری خبروں کی ترسیل کے لئے نقارے کا استمعال بھی کیا گیا اور ملکوں اور شہروں کے درمیان شاہراہوں پر واقع کاروان سرائے بھی ملک کے طول و عرض میں خبروں اور انٹیلیجنس کا ذریعہ ہوتے تھے.


ادھر مغرب میں شراب خانے اور کافی ہاؤسز خبروں کے تبادلے کی جگہ ہوتے اور اولین اخبارات دراصل انہیں سے حاصل کی گئی خبروں کو شائع کیا کرتے.فرانسیسی انقلاب کے دوران بھی انقلابیوں نے شراب خانوں کے ذریعہ اپنی تحریک کو مستحکم کیا. ١٧٢٠ میں لندن کے دو انقلابی سوچ کے حامل اخبار نویس کاٹو کے قلمی نام سے لکھا کرتے.


برطانوی شاہی قوانین کے مطابق حکومت پر تنقید الزام تراشی libel کے زمرے میں آتی. تنقید کرنے والا جتنا بڑا سچ بولتا قانون کی نظر میں اتنا ہی بڑا بہتان تراش ہوتا. مگر اسکے برعکس کاٹو کے نظریات کے مطابق سچ، الزام تراشی کے خلاف دفاع کی صلاحیت رکھتا تھا. انکا یہ بھی کہنا کہ عوام تحریر اور تقریر کے ذریعہ حکومت کو بےنقاب کرنے اور اسکی مخالفت کرنے کا حق رکھتے ہیں.


ان اخبار نویسوں کے نظریات برطانوی استعمار سے آزادی کے خلاف جدوجہد کے دوران امریکی نوآبادیات میں بہت مقبول تھے. بنجمن فرینکلن جنھیں جدید امریکی ریاست کے بانیوں میں اہم مقام حاصل ہے، ریاست ہائے متحدہ کے قیام اور کاٹو کی نظریاتی تحریریں امریکا میں چھاپا کرتے تھا.


١٧٣٥ میں بینجمن فرینکلن کے ایک ہم عصرپریس کے مالک پیٹرزینگر کو نیویارک کے گورنر پر تنقید کے جرم میں جیل جانا پڑا. زینگر کے وکیل نے کاٹو کی تحریروں کو اپنے مؤکل کے دفاع کے لئے استمعال کیا اور عدالت نے حکومت کی مخالفت کرنے والے زینگر کے حق میں فیصلہ دیا. یہی مقدمہ ریاست ہائے متحدہ امریکا میں پریس کی آزادی کی نہ صرف اولین علامت بن گیا بلکہ بعد ازاں پہلی ترمیم کی صورت میں امریکی آئین میں شامل ہوا اور مذہب، اظہار رائے اور پریس کی آزادی کی گارنٹی بن گیا اورآج تک بنا ہوا ہے. اسی ترمیم کی بنیاد پر ١٩٧١ میں امریکی سپریم کورٹ نے نیو یارک ٹائمز کے لئے امریکی حکومت کے خفیہ دستاویزات "پینٹاگون پیپرز" کی اشاعت کا حق برقرار رکھا.

بیسویں صدی میں میڈیا کے منظر نامے میں بےپناہ تبدیلیاں آئیں جن میں ١٩٢٠ میں ریڈیو کا کمرشل استمعال، ١٩٥٠ میں ٹیلی ویژن اور ١٩٨٠ کی دہائی میں کیبل ٹی وی متعارف ہوا جس نے الیکٹرونک میڈیا کو ڈی ریگولیٹ کر دیا.

بیسویں صدی کے اواخر میں انفا رمیشن اورکمیونیکیشن ٹیکنالوجیز بہت تیزی سے آپس میں مدغم ہوئیں جسکے نتیجے میں ١٩٩٠ میں انٹرنیٹ کا کمرشل استمعال شروع ہوا تو میڈیا براہ راست اس سے متاثر ہوا. اکیسویں صدی کے آغاز سے سوشل میڈیا انقلاب کے باعث صحافت کے میدان میں بھونچال سا آ گیا. یہاں تک کے اس میدان کی بنیادی اصطلا حوں کو از سرے نو بیان کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی.

آج ہر وہ فرد جسے کمپوٹر یا موبائل پر انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہے بلاگر، فیسبک، ٹویٹر، یوٹیوب، پر خبر بنا رہا ہے. اور اس طرح صحافی اور عام شہری کے درمیان فرق ختم ہوتا جا رہا ہے. عام شہری جو پہلے خبر یا میڈیا کا صارف تھا اب ٹیکسٹ، تصویر، وڈیو پوسٹنگز کے ذریعہ خبر کی پروڈکشن میں براہ راست حصہ لے رہا ہے.

بیسویں صدی میں اخبار کے مالکان اور صحافی خبروں کے لئے ایک دربان کا کردار بھی ادا کرتے تھے کہ یہ انکے اختیار میں تھا کے کونسی خبر عوام تک پہنچے اور کونسی نہیں لیکن آج سوشل میڈیا کے دور میں جب صارف خود خبر بنانے والے کا کردار ادا کر رہا ہے اخبارات اور ٹیلی ویژن چینلز کی اجارہ داری اس شعبہ میں ختم ہو گئی ہے. اگر جنگ اخبار کسی خبر کو شائع کرنا نہ چاہے تو بھی وہ سوشل میڈیا پر وائرل ہو سکتی ہے اوراس طرح پروفیشنل پریس اپنی ساکھ بچانے کے لئے سوشل میڈیا کی جانب سے مسلسل دباؤ کا شکار نظر آتا ہے.

دوسری طرف شوشل میڈیا پر خبر کی تصدیق کا کوئی مناسب انتظام موجود ہے اور نہ ہی خبر پوسٹ کرنے والے کے احتساب کا اور اس طرح جعلی صحافت کے علمبرداروں کو بھی اس میدان تک رسائی حاصل ہو گئی ہے. حالیہ امریکی الیکشن میں فیسبک پر جعلی خبروں کو بےدریغ شئیر کیا گیا جس پراس وقت سوشل میڈیا کے کردار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے.

آج ضرورات اس بات کی ہے کے ایک شہری جو خبر بنانے میں براہ راست شریک ہے اسے بھی صحافتی اصولوں کی تربیت دی جائے بلکہ سوشل میڈیا پر موجود صارف کو بھی اس آگاہی کی ضرورت ہے کہ غلط خبروں کو کیسے پہچانا جائے . خبر کی تصدیق کس طرح کی جائے کیونکے روایتی میڈیا اپنی تمام تر خرابیوں کے باوجود کم از کم اپنے شائع شدہ مواد کے لئے ذمدار ہوتا ہے جبکے سوشل میڈیا پر بسا اوقات خبر یا افواہ پھیلانے والا نامعلوم ہوتا ہے.

اس کے ساتھ ساتھ اسکولوں کے نصاب میں بھی سماجی رابطوں کے بارے میں مواد شامل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آیندہ نسل کو نہ صرف اس بات کی سمجھ دی جائی کے غلط یا صحیح معلومات کو کس طرح جانچنا ہے بلکہ انہیں اس بات سے بھی آگاہی دی جائے کہ جب کسی پبلک پلیٹ فارم پر معلومات کو پوسٹ کیا جاتا ہے تو اسکے اخلاقی تقاضے کیا ہوتے ہیں.

یہ بھی یاد رہے کہ ہرنئی ٹیکنولوجی کے ساتھ میڈیا کا طریقہ کار اور ظاہری شکل تبدیل ہو جاتی ہے مگر آج بھی اسکا مقصد سماج کو درست اور کارآمد معلومات فراہم کرنا ہے تاکہ وہ اپنی زندگی کے بارے میں بہتر فیصلے کر سکیں. اس مقصد کو سامنے رکھ کر آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کی ضرورت ہے کہ صرف وہی قومیں تغیرات کے اس سمندر میں پنپ سکتی ہیں جو مستقبل کی تبدیلیوں کا ادرک کر کہ اسکے اچھے اور برے پہلوؤں کو سامنے رخ کر منصوبہ بندی کریں.




2 comments:

  1. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ لوگوں کو اس بات کی آگاہی کیسے دی جائے اور تربیت کا ذمٌہ کون لے؟ ہاں البتٌہ یہ ممکن ضرور ہے کہ با شعور لوگ ہر سنی سنائی چیز پر آنکھ بند کر کے یقین نہ کریں اور نہ اسے آگے بھیجیں۔

    ReplyDelete
  2. @wardah thanks. Inshallah in a later article we will try to discuss how to raise awareness.

    ReplyDelete